Wednesday, 17 May 2017

اشکال آیت: بارش اور ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی جنس کاعلم

اشکال آیت: بارش اور ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی جنس کاعلم



بڑی تعداد میں مستشرقین و ملحدین قرآن و سنت کے مختلف گوشوں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور اپنی مرضی کے ”منطقی دلائل“ پیش کر کے کہا جاتا ہے کہ فلاں بیان فلاں وجہ سے صحیح نہیں ہے۔ یہ لوگ آیات کا سیاق و سبا ق اپنی مرضی کا کشید کرتے ہیں یا سیاق و سباق کو بالکل نظر انداز کرتے ہوئے صرف آیت کی سٹیٹمنٹ کو ہی کافی سمجھتے ہیں ۔ جبکہ قرآن مجید کی کسی آیت کے صحیح مطلب کو سمجھنے کے لئے اس آیت کا شان نزول اور آیت میں استعمال زبان کو صحیح طور پر سمجھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ کسی آیت کے متعلق سمجھنا درست نہیں کہ وہ تنہا کھڑی ہے اور بغیر کسی بیرونی معلومات کے سمجھی جا سکتی ہے۔ قرآن مجید کی ایک آیت جس کا عموماً غلط مفہوم کیا جاتا ہے، جس میں رحم مادر اوراوقاتِ بارش کے متعلق اللہ تعالی کے اختصاصی علم کے متعلق بات کی گئی ہے ، اس آرٹیکل میں جدید سائنس کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ واضح کیا گیا ہے کہ کیسے اس متعلق مدعیان کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
تعارف
قرآن مجید کے متعلق اٹھائے گئے عمومی سوالات میں سے ایک سوال اس آیت کے متعلق ہے:
إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ۔
بےشک قیامت کا علم الله ہی کو ہے اور وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ رحموں میں ہے۔ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا عمل کرے گا اور یہ کہ وہ کس زمین میں مرے گا ۔بےشک الله تعالیٰ سب باتوں کا جاننے والا خبیر ہے۔ (لقمان 31:34)
جب سے موسم کی کیفیت کے متعلق پیشگوئی کرنا اور مادر شکم میں پیدا ہونے والے بچہ کی جنس کا پتا لگا لینا ممکن ہوا ہے، یہ اعتراض عام دوہرایا جارہا ہے کہ سائنس کی ترقی نے اس آیت کو غلط ثابت کر دیا ہے۔ اس آیت کو سمجھنے کے لئے ہمیں آیت کے پس منظر پر اور آیت میں علم کی کون سی قسم مذکورہ ہے اس پر غور کرنا ہو گا۔
آیت صرف علم غیب کے متعلق بات کرتی ہے
آیتِ موضوع میں صرف اور صرف علم غیب کے متعلق ہے نہ کہ دوسری طرح کے علوم کے متعلق۔ سورۃ الانعام میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الانعام 6:59)
اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا اور اس کو خشکی اور تری کی سب چیزیں معلوم ہیں۔
اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے حضور ﷺ کے ایک صحابی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
عن ابن عباس:” وعنده مفاتح الغيب “قال: هن خمس: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنزلُ الْغَيْثَ إلى إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ، سورۃ لقمان 34(تفسیر طبری جلد 11 صفحہ 402 الرقم:13307 مطبوعہ مؤسسۃ الرسالۃ 2000)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ” وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ “ پانچ چیزیں ہیں، جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے کہ قیامت کب آئے گی، بارش کب ہو گی اور رحموں میں کیا ہے۔ اور کسی نفس کو علم نہیں کہ کل کیا ہو گا ، اور کسی نفس کو علم نہیں کہ اس کو موت کہاں آئے گی۔ بے شک اللہ تعالیٰ سب باتوں کا جاننے والا خبیر ہے۔
علم غیب کیا ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ غیب کا مطلب کیا ہے۔ جید حنفی سکالر النسفی(المتوفی 710ھ) لکھتے ہیں:
والغيب وهو ما لم يقم عليه دليل“(تفسیر نسفی جلد 2 صفحہ 617 مطبوعہ دار الکلم طیب بیروت1998ء)
اور غیب وہ ہے جس پر کوئی ثبوت نہیں ہے“۔
لہٰذا وہ علم جو وحی سے یا مشاہدے کی بنیاد پر حاصل ہوتا ہے وہ ”علم غیب“ نہیں ہے چنانچہ انکے ذریعے کسی کا جنس کا پتا لگا لینا یا موسمی کیفیت کا مظاہر کو دیکھتے ہو پیشگوئی کرنا اس آیت کے زیر نہیں آتا۔
آیت کا شان نزول
آیت سے صرف یہ مراد نہیں کہ صرف مذکورہ پانچ چیزیں ہی اللہ تعالیٰ کے علم مطلق میں ہیں، بلکہ یہ پانچ چیزیں، پانچ سوالات کے جواب میں بتلائیں گئیں ہیں جیسے کہ سیاق سباق سے ذیل میں بتلایا گیا ہے۔
وارث بن عمرو نامی ایک بدو حضور ﷺ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا کہ: ”قیامت کب آئے گی؟ پھر اس نے پوچھا کہ ہماری زمینیں قحط زدہ ہیں، بارش کب ہو گی؟ میں اپنی بیوی کو اس حالت میں چھوڑ آیا کہ وہ حاملہ تھی، میری حاملہ بیوی کیا جنے گی؟ میں نے کل اور آج جو کچھ کیا وہ تو مجھے معلوم ہے مگر میں آئندہ کل کیا کروں گا ؟ اور یہ کہ مجھے اپنی جائے پیدائش کا علم ہے مگر میری موت کہاں واقع ہوگی ؟“۔ یہ آیت اس بدو کے جواب میں نازل ہوئی کہ ان چیزوں کا حقیقی علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کو ہے۔(فتح القدیر للشوکانی جلد 4 صفحہ 282 مطبوعہ دار ابن کثیر دمشق 1414ھ)
علامہ مودودی وضاحت فرماتے ہیں:
یہاں ایک بات اور بھی اچھی طرح سمجھ لینی ضروری ہے ، کہ اس آیت میں امور غیب کی کوئی فہرست نہیں دی گئی ہے جن کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے ۔ یہاں تو صرف سامنے کی چند چیزیں مثالاً پیش کی گئی ہیں جن سے انسان کی نہایت گہری اور قریبی دلچسپیاں وابستہ ہیں اور انسان اس سے بےخبر ہے ۔ اس سے نتیجہ نکالنا درست نہ ہو گا کہ صرف یہی پانچ امور غیب ہیں جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ حالانکہ غیب نام ہی اس چیز کا ہے جو مخلوقات سے پوشیدہ اور صرف اللہ پر روشن ہو، اور فی الحقیقت اس غیب کی کوئی حد نہیں ہے “۔(تفہیم القرآن جلد 4 صفحہ 29 مطبوعہ ادارہ ترجمان القرآن لاہور)
زیر بحث آیت میں علم سے کیا مراد ہے؟
یہ بالکل واضح ہے کہ یہاں علم سے مراد اس طرح کا علم نہیں جس میں اندازہ دہی کے لئے بھی کچھ علمی ڈگریوں کی ضرورت ہو، جو علم کئی طریقوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے مثلاً خوابوں، سازو سامان، سوجھ و بوجھ کے ذریعے وغیرہ، اس طرح کا علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ در حقیقت یہ اللہ تعالیٰ کے علم سے مناسبت بھی نہیں رکھتا۔ مثلاً ایک شخص بادلوں سے اندازہ لگائے کہ بارش برسے گی، سورۃ القمان کی زیر بحث آیت میں اس طرح کا علم مراد ہی نہیں ہے۔ عظمتِ خداوندی بھی اس بات کے شایان شان ہے کہ یہ علم کی وہ قسم ہونی چاہیے جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے منسوب ہو اور اس کی ذات واحد سے خاص ہو۔ چنانچہ وہ علم جو ہر ایک کو معلوم ہے وہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ منسوب ہو گا۔ اور وہ تمام مشترکہ علم بھی اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے۔اختصار کی غرض سے ہم وسیع معنوں میں اللہ تعالیٰ کے علم کی دو حصوں میں درجہ بندی کر سکتے ہیں:
۱)وہ علم جو کسی بھی ذریعہ سے حاصل نہیں کیا جا سکتا یعنی علم غیب۔
۲)وہ علم جو ہر چیز کا اور اس کی ہر یک تفصیل کا گھراؤ کئے ہوئے ہے یعنی علم محیط۔
درج ذیل آیت اس بات کو واضح کرتی ہے:
وَعِنْدَهُ مَفَاتِحُ الْغَيْبِ لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا هُوَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الانعام 6:59)
اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جن کو بجز اس کے اور کوئی نہیں جانتا اور اس کو خشکی اور تری کی سب چیزیں معلوم ہیں“۔
یہ آیت علم غیب کے علاوہ کامل اور ہر چیز پر محیط علم کے متعلق ہے، جیسا کہ” مَا “ کے لفظ سے پتا چلتا ہے جو یہاں ہر چیز کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
انسانی علم ان دونوں قسموں میں سے نہیں
انسانی علم نہ تو انڈیپینڈینٹ ہے اور نہ ہی قطعی۔ ایک ڈاکٹر کسی شخص کی نبض پر ہاتھ رکھ کر کئی نتائج حاصل کر سکتا ہے مگر یہ علم کسی ذریعہ سے حاصل شدہ ہے۔ اسی طرح ایک شخص دور سے اٹھتے دھوئیں کو دیکھ کر سمجھ لیتا ہے کہ وہاں آگ ہے، لیکن اس شخص نے اٹھتے ہوئے دھوئیں سے یہ علم حاصل کیا ہے۔ اس لئے اس علم کو علم غیب نہیں کہا جا سکتا ۔ کیونکہ ہم پہلے ہی جانتے ہیں کہ مہیا کیا گیا یا انتقال شدہ علم، علم غیب نہیں ہو سکتا ہے۔ مختصر یہ کہ کوئی بھی علم جو کسی ذریعہ پر منحصر ہے علم غیب نہیں کہلایا جا سکتا۔ جیسے مثال کے طور پر اگر کسی ڈاکٹر سے حاملہ عورت کے لائے بغیر پوچھا جائے کہ اس عورت کے پیٹ میں موجود بچے کی جنس کیا ہے؟ تو ڈاکٹر یہ بتانے سے قاصر ہے، کیونکہ اس کا علم منحصر علی الذات ہے۔ اسی وجہ سے یہ علم زیر بحث آیت کے بیان کے انڈر نہیں آتا۔
مزید ایسے ہی سائنسی علم قطعی نہیں ہے۔ بارش کے متعلق جاننا شاید آسان ہو مگر یہ قطعی طور پر نہیں کہا جا سکتا ہے کہ دنیا میں، ہر ایک جگہ پر کب اور کتنی بارش ہو گی۔ جیسا کہ فرشتے بارش کو برسانے کا فعل انجام دیتے ہیں مگر ان کے بھی علاقہ جات مختص ہوتے ہیں جن کے متعلق ان کو علم دیا جاتا ہے۔ علم قطعی و کامل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات برحق کو ہے۔
رحم مادر میں کیا ہے کے علم کا انتقال ممکن ہے
سورۃ لقمان کی اس آیت 34میں اکیلے خدا کی ملکیت علم کو ظاہر کرنے کے لئے لفظ ”عند“ استعمال ہوا ہے اور یہی لفظ ثواب کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے ، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علوم دوسروں کو بھی عطا کئے جا سکتے ہیں۔ رحم مادر میں موجود بچہ کے جنس معلوم کر لینے کے متعلقہ سائنسی علوم میں ہونے والی اس ترقی سے بہت پہلے مسلمان علماء نے ذکر کر دیا تھا کہ یہ علوم دوسروں کو عطا کئے جا سکتے ہیں۔ علامہ آلوسیؒ تفسیر روح المعانی میں لکھتے ہیں:
أنه عزّ وجلّ إذا أمر بالغيث وسوقه إلى ما شاء من الأماكن علمته الملائكة الموكلون به ومن شاء سبحانه من خلقه عزّ وجلّ، وكذا إذا أراد تبارك تعالى خلق شخص في رحم يعلم سبحانه الملك الموكل بالرحم بما يريد جلّ وعلا كما يدل عليه ما أخرجه البخاري عن أنس بن مالك عن النبي صلّى الله عليه وسلم قال: «إن الله تعالى وكل بالرحم ملكا يقول: يا رب نطفة يا رب علقة يا رب مضغة فإذا أراد الله تعالى أن يقضي خلقه قال: أذكر أم أنثى شقي أم سعيد فما الرزق والأجل؟ فيكتب في بطن أمه فحينئذ يعلم بذلك الملك ومن شاء الله تعالى من خلقه عزّ وجلّ۔
جب اللہ کسی جگہ بارش برسانے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ متعلقہ جگہ پر مامور بارش کے فرشتوں کو اس کا علم دے دیتا ہے، اسی طرح مخلوق میں سے جس کو وہ چاہتا بتا دیتا ہے۔ بالکل اسی طرح جب اللہ تعالیٰ شکم مادر میں کیسی کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس کام پر مامور فرشتوں کو علم دہ دیتا ہے جو اس کام کو سر انجام دیتے ہیں۔ پس جیسا کہ ہم صحیح بخاری میں دیکھتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے رحم مادر پر ایک فرشتہ مقرر کر دیا ہے اور وہ کہتا رہتا ہے کہ اے رب ! یہ نطفہ قرار پایا ہے ۔ اے رب ! اب علقہ یعنی جما ہوا خون بن گیا ہے ۔ اے رب ! اب مضغہ ( گوشت کا لو تھڑا ) بن گیا ہے ۔ پھر جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی پیدائش پوری کرے تو وہ پوچھتا ہے اے رب لڑکا ہے یا لڑکی ؟ نیک ہے یا برا ؟ اس کی روزی کیا ہو گی ؟ اس کی موت کب ہو گی ؟ اسی طرح یہ سب باتیں ماں کے پیٹ ہی میں لکھ دی جاتی ہیں۔(الرقم:6595) “ اور ان سب باتوں کا علم فرشتہ خدا سے پاتا ہے اور مخلوق میں سے جسے اللہ چاہے یہ علم عطا کر دیتا ہے۔(روح المعانی جلد 11 صفحہ 109 مطبوعہ دار الکتب علمیہ بیروت 1415ھ)
اسی طرح تاریخ میں اس سے بھی پہلے ہم دیکھ سکتے ہیں ، علماء اس علم کے انتقال کی بات کرتے ہیں ۔ تفسیر ابن کثیر میں حافظ عماد الدین ابن کثیرؒ لکھتے ہیں:
هَذِهِ مَفَاتِيحُ الْغَيْبِ الَّتِي اسْتَأْثَرَ اللَّهُ تَعَالَى بِعِلْمِهَا، فَلَا يَعْلَمُهَا أَحَدٌ إِلَّا بَعْدَ إِعْلَامِهِ تَعَالَى بِهَا، فَعِلْمُ وَقْتِ السَّاعَةِ لَا يَعْلَمُهُ نَبِيٌّ مُرْسَلٌ وَلَا مَلَكٌ مُقَرَّبٌ لَا يُجَلِّيها لِوَقْتِها إِلَّا هُوَ، وَكَذَلِكَ إِنْزَالُ الْغَيْثِ لَا يَعْلَمُهُ إِلَّا اللَّهُ وَلَكِنْ إِذَا أَمَرَ بِهِ عَلِمَتْهُ الْمَلَائِكَةُ الْمُوَكَّلُونَ بذلك، ومن يشاء اللَّهُ مَنْ خَلْقِهِ، وَكَذَلِكَ لَا يَعْلَمُ مَا في الأرحام مما يريد أن يخلقه تَعَالَى سِوَاهُ، وَلَكِنْ إِذَا أَمَرَ بِكَوْنِهِ ذِكْرًا أَوْ أُنْثَى أَوْ شَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا، عَلِمَ الملائكة الموكلون بذلك، ومن شاء الله من خلقه، وكذا لَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا فِي دُنْيَاهَا وَأُخْرَاهَا وَما تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ فِي بَلَدِهَا أَوْ غَيْرِهِ مِنْ أَيِّ بِلَادِ اللَّهِ كَانَ، لَا عِلْمَ لِأَحَدٍ بِذَلِكَ
یہ غیب کی وہ کنجیاں ہیں جن کا علم اللہ تعالی نے کسی اور کو نہیں دیا ۔ مگر سوائے اُس کے جس کو اللہ علم عطا فرمائے ۔ قیامت کے آنے کا صحیح وقت نہ کوئی نبی مرسل جانتا تھا اور نہ کوئی مقرب فرشتہ، اس کا وقت کا علم صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ اسی طرح بارش کب اور کہاں اور کتنی برسے گی اس کا علم بھی کسی کو نہیں ہاں جب فرشتوں کو حکم ہوتا ہے جو اس پر مقرر ہیں تب وہ جانتے ہیں اور مخلوق میں سے جسے اللہ معلوم کرائے۔ اسی طرح حاملہ کے پیٹ میں کیا ہے؟ اسے بھی صرف اللہ ہی جانتا ہے۔ مگر وہ جب مامور فرشتے کو حکم دیتا کہ یہ نر ہو گا یا مادہ؟، نیک ہو گا یا بد ؟ تو مامور فرشتے کو اس کا علم ہو جاتا ہے اور مخلوق میں سے جسے اللہ معلوم کرائے ۔ اسی طرح کسی کو یہ معلوم نہیں کہ وہ کل یہاں یا قیامت کے حساب سے کیا کمائے گا ۔ اسی طرح کسی نفس کو علم نہیں کہ وہ کہاں مرے گا۔ آیا اپنی زمین پر مرے گا یا کہیں ؟ یہ کوئی نہیں جانتا۔(تفسیر ابن کثیر جلد 6 صفحہ 315 مطبوعہ دار الکتب علمیہ بیروت1418ھ)
قرآنی آیت کی یہ تفاسیر اس وقت کے جید علمائے اسلام کی ہیں جس دور میں جدید سائنسی ترقی نہیں ہوئی تھی۔ پس فرشتوں کا علم بھی اللہ تعالیٰ کے ”علم غیب“ کا محتاج ہے۔ چنانچہ اسی طرح کوئی اگر کوئی کسی ذریعے سے حاملہ بچے کی حالت کا علم حاصل کرلیتا ہے تو یہ بات اس قرآن ی آیت کے خلاف نہیں جاتی۔ بے شک اسلام وقت کی کسوٹی پر کھرا اترتا ہے۔
مَا فِي الْأَرْحَامِ کے دوسرے معانی
کچھ علماء نے مَا فِي الْأَرْحَامِ سے مراد نا مولود بچے کی جنس کے متعلق علم لیا ہے اور کچھ نے اس علم سے مراد صرف جنس نہیں لی بلکہ کئی اور چیزیں مثلاً بچے کا رنگ، وہ بچہ خوش ہو گا یا نہیں، اس بچے کا ذریعہ معاش کیا ہو گا وغیرہ۔ مذکورہ بالا حدیث صحیح بخاری بھی اس رائے کو تقویت بخشتی ہے اور اس رائے پر مزید کوئی سوال اٹھنے کا جواز نہیں بچتا۔ تاہم بدو کے سوال کی وجہ سے نامولود بچے کی جنس کا علم بھی ایک صحیح نقطہ ہے۔ یہ زیادہ صحیح ہو گا کہ مَا فِي الْأَرْحَامِ سے نا صرف بچے کی جنس کے متعلق علم لیا جائے بلکہ مذکورہ بالا علوم کو بھی اس میں شامل رکھا جائے۔
خلاصہ
مَا فِي الْأَرْحَامِ“یعنی” حاملہ عورت کے پیٹ میں کیا ہے؟ “کے علم کی دو درجہ بندیاں علم غیب اور علم محیط ہیں۔ چاہے ڈاکٹروں کا بچے کی جنس کے متعلق علم ہو یا موسمی پیشگوئیوں جو قدرتی مظاہر کی محتاج ہیں ، دونوں ان اقسام علم سے نہیں ہیں۔ باوجود اس کے کہ قرآن پاک خود اور جید علمائے اسلام نے بھی صراحت کی ہے کہ ان چیزوں کا علم بھی اللہ جیسے چاہے عطا کر سکتا ہے۔ چاہے وہ وحی کے ذریعہ سے ہو یا چاہے وہ مشاہدات کی بنیاد پر ہو۔

تحریر عدیل طارق خان



مکمل تحریر >>

Monday, 17 October 2016

صحابہ ؓ معیارِ حق ہیں

🌹 صحابہ معیار حق ہیں 🌹

افادات: مسند الہند حکیم الاسلام حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ 

شارح: حضرت مولانا مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب دامت برکاتہم شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعلوم دیوبند

ناقل: عادل سعیدی پالن پوری

         خاتم النبین ﷺ  سے پہلے ہر نبی مخصوص قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا، بخاری شریف میں ہے: کان النبی ﷺ یبعثُ الیٰ قومہ خاصةً، و یبعثُ الی الناس کافةً ( ہر نبی اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا، اور میں تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں ) اور اس وقت چونکہ نبوت کا سلسلہ جاری تھا، اس لئے ایک نبی کے بعد دوسرا نبی اس کا قائم مقام بنتا تھا، اس وقت امتیں مبعوث نہیں ہوتی تھیں، مگر خاتم النبین ﷺ  کے بعد چونکہ نبوت کا سلسلہ بند ہوگیا، اس لئے پیغام رسانی کے لئے آپ ﷺ کی امت کو بھی مبعوث فرمایا گیا، صحیحین میں روایت ہے: کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاءُ، کلما ھلک نبی خلفہ نبی، و انہ لانبی بعدی ( بنی اسرائیل کے امور کی تدبیر و انتظام حضرات انبیاء علیھم الصلوٰۃ والسلام کرتے تھے، جب ایک نبی کا انتقال ہوجاتا، تو دوسرا نبی اس کا قائم مقام بن جاتا، اور بیشک شان یہ ہے کہ میرے بعد کوئی ( نیا ) نبی نہیں ہے ) جو میری قائم مقامی کرے، آپ ﷺ کے بعد آپ کی قائم مقامی آپ ﷺ کی امت کرے گی۔

       نیز گذشتہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام مفھمین کی مذکورہ بالا تمام انواع کے جامع نہیں ہوتے تھے ( مفھمین: اللہ سبحانہ وتعاليٰ کے تربیت کئے ہوئے لوگ، جنکی تعداد آٹھ ہیں، تفصیلات کے لئے رجوع کریں، رحمۃ اللہ الواسعہ جلد نمبر ٢ صفحہ نمبر ٤٦ )  صرف ایک یا دو فنون کے جامع ہوتے تھے، ایسی ہمہ گیر شخصیت جو مفھمین کی تمام انواع کو جامع ہو، بس ایک ہی شخصیت ہے، اور وہ آپ ﷺ کی ذات والا صفات ہے، حضرت ختمی مرتبت ﷺ "آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری " کا مصداق ہیں، اس لئے نبیوں میں سب سے اونچا مقام آپ ﷺ کا ہے۔

        دلائل: اس بات کی دلیل کہ خاتم النبین ﷺ  کی بعثت دوہری ہے، یعنی آپ ﷺ کی امت بھی مبعوث ہے، اور وہ یک گونہ آپ ہی کی بعثت ہے، شاہ صاحب قدس سرہ نے اس کی تین دلیلیں بیان کی ہیں، دو آیات کریمہ، اور ایک حدیث شریف، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

       پہلی دلیل: رسول اللہ ﷺ کی نبوت آفاقی اور ابدی ہے، سورۂ سبا آیت نمبر ٢٨ میں ارشاد پاک ہے:

وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ ( اور ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے واسطے پیغمبر بناکر بھیجا ہے، خوش خبری سنانے والے، اور ڈرانے والے، لیکن اکثر لوگ نہیں سمجھتے )یعنی خواہ عرب ہوں، یا عجم، موجود ہوں، یا آئندہ آنے والے، آپ ﷺ  سب کی طرف مبعوث فرمائے گئے ہیں، ادہر آپ ﷺ  کا بذات خود تمام جہاں میں دعوت کے لئے پہنچنا ایک مشکل امر تھا، اس وجہ سے آپ ﷺ  کی بعثت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جزیرة العرب کے باشندوں کی طرف آپ ﷺ  کی بعثت بلاواسطہ ہے، اور باقی سارے جہاں کی طرف آپ ﷺ  کی بعثت امیین ( طبقۂ صحابہ ) کے واسطے سے ہے، پس جماعت صحابہ بھی مبعوث ہے، اور یہ بھی من وجہٍ آپ ﷺ  ہی کی بعثت ہے، اس طرح آپ ﷺ  کی بعثت دوہری ہوئی۔

        سورة الجمعہ آیت نمبر ٢تا ٤ تک میں آپ ﷺ  کی امت کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، ارشاد پاک ہے:

هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُولًا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ * وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ * ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ( اللہ وہی ہیں، جنہوں نے امیوں میں، انہیں میں سے ایک عظیم پیغمبر بھیجا، جو انکو اللہ کی آیتیں پڑھ کر سناتا ہے، اور انکو پاک کرتا ہے، اور ان کو کتاب الٰہی اور دانشمندی کی باتیں سکھاتا ہے، اگرچہ وہ لوگ پہلے سے کھلی گمراہی میں تھے، اور ان میں سے دوسروں میں ( بھی آپ ﷺ  کو بھیجا ) جو ہنوز ان میں شامل نہیں ہوئے، اور وہ زبردست، حکمت والے ہیں، یہ فضل خداوندی ہے، جس کو چاھتے ہیں دیتے ہیں، اور اللہ تعالٰی بڑے فضل والے ہیں۔

       اس آیت میں امیوں سے مراد عرب ہیں، جو بعثت نبویﷺ  کے وقت جزیرۃ العرب میں بود و باش رکھتے تھے، جن کی اکثریت حضرت اسماعیل علیہ الاسلام کی اولاد اور ناخواندہ تھی، انکی طرف نبی عربی ﷺ  بلاواسطہ مبعوث فرمائے گئے ہیں، اسی لئے آپ ﷺ  کا لقب النبی الأمی ہے ( سورۂ اعراف آیت نمبر ١٥٧ ) تورات و انجیل میں بھی آپ ﷺ  کا اسی وصف سے تذکرہ کیا گیا ہے، اور الآخرین کا عطف الأ میین پر ہے، اور آخرین سے مراد تمام عجم ( غیر عرب ) ہیں، وہ بھی بایں اعتبارعربوں میں شامل ہیں، کہ تمام انسان ایک ماں باپ کی اولاد ہیں، یھی آیت کی صحیح تفسیر ہے، خود شاہ صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ نے آیت کا ترجمہ یہ کیا ہے "و نیز مبعوث کرد آں پیغامبر را در قومے دیگر از بنی آدم کہ ہنوز نہ پیوستہ اند بامسلماناں " اور حاشیہ میں تحریر فرمایا ہے "یعنی فارس و سائر عجم " پس یہ خیال قطعاً باطل ہے کہ آخرین سے مراد صرف ہندو ہیں، جیسا کہ ''اب بھی نہ جاگے تو '' کے مصنف کا خیال ہے۔

      اور واو کے ذریعہ عطف کرنے کی صورت میں معطوف، معطوف علیہ میں من وجہٍ اتحاد ہوتا ہے، اور من وجہٍ مغایرت، یھاں اتحاد اس اعتبار سے ہے کہ عرب و عجم دونوں ہی آپ ﷺ  کی امت ہیں، اور مغایرت اس اعتبار سے ہے کہ آپ ﷺ  اول کی طرف بلاواسطہ مبعوث ہیں، اور آخرین کی طرف بالواسطہ یعنی بواسطۂ امت اُمّیَہ۔

      اور ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ میں اس طرف اشارہ ہے کہ دولت ایمان تمام عجمیوں کو نصیب نہیں ہوگی، اس لئے ان سے جزیہ قبول کیا جاتا ہے، اور اس کی وجہ فضل کی کمی نہیں ہے وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ، بلکہ قابلیت کا فقدان ہے، اور چونکہ اس قسم کا کوئی مضمون امیین کے ساتھ نہیں آیا، اس لئے امام اعظم رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان سے جزیہ قبول نہیں کیا جاتا۔

      پس جب امیوں میں آپ ﷺ کا کام تمام ہوگیا، اور جزیرۃ العرب کے باشندے فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگے تو سورة النصر نازل ہوئی، اور آپ ﷺ  کو اطلاع دی گئی کہ آخرت کے لئے تیاری شروع فرمادیں، آپ کا دنیا کا کام تمام ہوگیا ہے، آگے کام صحابہ سنبھال لیں گے۔

      دوسری دلیل: سورۂ آل عمران آیت نمبر ١١٠ میں ارشاد پاک ہے:

كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۗ وَلَوْ آمَنَ أَهْلُ الْكِتَابِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ ۚ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَأَكْثَرُهُمُ الْفَاسِقُونَ ( تم لوگ بہترین امت ( جماعت ) ہو، جو لوگوں کے فائدے کے لئے وجود میں لائی گئی ہے، تم لوگ نیک کاموں کا حکم دیتے ہو، اور بری باتوں سے روکتے ہو، اور اللہ تعالٰی پر ایمان رکھتے ہو، اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو ان کے لئے اچھا ہوتا، ان میں سے بعضے مسلمان ہیں، اور ان میں سے بیشتر کافر ہیں )۔

      اس آیت پاک کی تفسیر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے تین ارشاد مروی ہیں، جو درج ذیل ہیں:
١۔۔۔۔ ابن جریر طبری اور ابن ابی حاتم نے سُدی رحمہ اللہ تعالیٰ ( مفسر قرآن تابعی ) سے اس آیت پاک کی تفسیر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے:
لو شاء اللہ لقال '' انتم '' فکنا کلُنا، ولٰکن قال: '' کنتم '' خاصةً فی اصحاب محمد ﷺ، و من صنع مثل صنیعھم کانوا خیر امة أخرجت للناس ( اگر اللہ تعالٰی چاھتے تو انتم فرماتے، پس اس وقت ہم سب آیت کا مصداق ہوتے، مگر اللہ تعالٰی نے کنتم فرمایا، خاص طور پر صحابۂ کرام ؓ کے بارے میں، اور جو لوگ صحابۂ کرام ؓ جیسے کام کرے، وہ بہترین امت ہونگے، یہ امت لوگوں کی نفع رسانی کے لئے وجود میں لائی گئی ہے )
٢۔۔۔۔ سُدی رحمہ اللہ تعالیٰ ہی سے ابن جریر اور ابن ابی حاتم رحمہما اللہ تعالیٰ نے آیت کی تفسیر میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ قول بھی نقل کیا ہے:
قال: یکون لاوّلِنا، ولایکون لآخرنا ( فرمایا: یہ آیت ہمارے اگلوں کے لئے یعنی صحابہ ؓ کے لئے ہے، اور ہمارے پچھلوں کے لئے نہیں ہے )
٣۔۔۔۔ ابن جریر حضرت قتادہ رحمہ اللہ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں:
ذُکر لنا أن عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ قرأ ھٰذہ الآیة '' کنتم خیر امة أخرجت للناس '' الآیة، ثم قال: یاأیھا الناس! من سرّہٗ أن یکون من تلکم الأمة فلیؤد شرط اللہ منھا ( ہم سے یہ بات بیان کی گئی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت کنتم خیر امة تلاوت فرمائی، پہر فرمایا کہ جو شخص تم میں سے چاھتا ہے کہ اس امت ( خیر الامم ) میں شامل ہو تو چاھئے کہ وہ اللہ کی شرط پوری کرے، جو خیر الامم کے لئے آیت میں لگائی گئی ہے )
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے مذکورہ بالا تینوں ارشادات کنزل العمال جلد نمبر ٢ صفحہ نمبر ٣٧٥۔ ٣٧٦ میں مذکور ہیں، حدیث نمبر ترتیب وار یہ ہیں، ٤٢٨٩۔ ٤٢٩٢۔ ٤٢٩٣۔

       اس کے بعد ایک نحوی قاعدہ جان لیں، تاکہ انتم اور کنتم کا فرق واضح ہوجائے، انتم خیر امة، جملہ اسمیہ خبریہ ہے، جو محض ثبوت و استمرار پر دلالت کرتا ہے، اس میں کسی زمانہ سے کوئی بحث نہیں ہوتی، مثلاﹰ زیدٌ قائمٌ یہ جملہ زید کے لئے قیام کے ثبوت و استمرار پر دلالت کرتا ہے، کوئی خاص زمانہ اس میں ملحوظ نہیں ہے، اور کنتم خیر امة میں ضمیر، کان کا اسم ہے، اور خیر امة مرکب اضافی کان کی خبر ہے، اور نحوی قاعدہ یہ ہے '' کان اپنے دونوں معمولوں ( اسم و خبر ) کے ساتھ، اس کے اسم کے، اس کی خبر کے مضمون کے ساتھ محض اتصاف پر دلالت کرتا ہے ( یعنی کوئی امر زائد اس میں نہیں ہوتا ) ایسے زمانہ میں جو اس کے صیغہ کے مناسب ہو، یا اس کے مصدر کے مشتقات میں سے جملہ میں مذکور صیغہ کے مناسب ہو، اگر صیغہ فعل ماضی ہو، تو زمانہ صرف ماضی ہوگا، بشرطیکہ اس کو غیر ماضی کے لئے خاص کرنے والا کوئی لفظ نہ ہو، اور اگر صیغہ خالص فعل مضارع کا ہو تو اس میں حال و استقبال دونوں زمانوں کی صلاحیت ہوگی، بشرطیکہ کوئی حرف جیسے لن، لم وغیرہ اس کو کسی ایک زمانے کے ساتھ خاص نہ کردیں، یا اس کو ماضی کے لئے نہ کردیں،۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مثلاﹰ: کان الطفل جاریا، اس وقت کہیں گے جب بچہ زمانۂ ماضی میں چلنے لگا ہو، اور یکون الطفل جاریا اس وقت کہیں گے جب چلنا زمانۂ حال میں، یا مستقبل میں متحقق ہو ''( النحو الوافی جلد نمبر ١ صفحہ نمبر ٥٤٨ )۔

      پس اگر آیت کریمہ میں انتم خیرُ امةٍ ہوتا، تو خیریت کا ثبوت دوام و استمرار کے ساتھ ہوتا، اور پوری امت اس کا مصداق ہوتی، مگر جب آیت میں کنتم خیر امةٍ ہے تو نزول آیت کے وقت زمانۂ ماضی میں جو امت وجود پذیر ہوچکی ہے، اس کو خیریت کے ساتھ متصف کیا گیا ہے، پس صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین ہی آیت کا مصداق اولیں ہیں، کیونکہ نزول آیت کے وقت انہیں کا تحقق ہوچکا تھا، باقی امت ابھی تک وجود پذیر نہیں ہوئی تھی، البتہ باقی امت کے وہ افراد جو آیت کی شرط پوری کریں۔۔۔۔۔۔ آیت کا مصداق ہوں گے۔

       اب آیت کریمہ کا مطلب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے تینوں ارشادات کی روشنی میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جماعت صحابہ کو یعنی امیین کو جو آنحضورﷺ  کی بلاواسطہ امت ہیں، مخاطب فرماکر ارشاد فرمایا، کہ تم علم الٰہی میں بہترین امت تھے، اس لئے تم کو لوگوں کی نفع رسانی کے لئے وجود میں لایا گیا ہے، یعنی  دعوت اسلام کو لے کر ساری دنیا میں تمہیں پہنچا ہے، تمہیں چاھئے کہ لوگوں کو بھلائی کی باتوں کا حکم دو، برائی کی باتوں سے روکو، اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کی دعوے دو، اس خیر امت میں اہل کتاب ( یہود ) شامل نہیں ہیں، اگرچہ وہ مدینہ منورہ میں سکونت پذیر تھے، کیونکہ ان میں سے معدودے چند کے علاوہ کوئی ایمان نہیں لایا، اہل کتاب کا لفظ اگرچہ عام ہے، مگر آیت میں سیاق کے قرینہ سے خاص یہود مراد ہیں۔

      اور جس طرح نبی کے لئے عصمت ضروری ہے، کیونکہ اس کے بغیر نبی کے پہنچائے ہوئے دین پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح جماعت صحابہ کے لئے حفاظت ضروری ہے، کیونکہ وہ خیر الامم ہیں، اور وہ من وجہٍ مبعوث الی الآخرین ہیں، پس عدالت و حفاظت کے بغیر ان کے پہنچائے ہوئے دین پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، اور یہ حکم کلی کے ہر ہر فرد کا ہے، ارشاد نبویﷺ  ہے '' میرے صحابہ آسمان کے ستاروں کی مثال ہیں، ان میں سے جس کی بھی تم پیروی کروگے، منزل مقصود تک پہنچ جاؤگے '' ( یہ حدیث چھ صحابہ سے مروی ہے، اور حسن لغیرہ ہے، تفصیل کے لئے دیکھیں، دین کی بنیادیں اور تقلید کی ضرورت صفحہ نمبر ٨٩ تا ٩٥ )۔

     صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم اجمعین کی اسی عدالت و حفاظت کا نام '' معیار حق '' ہونا ہے، جن لوگوں کے نزدیک اللہ و رسول کے علاوہ کسی کی ذہنی غلامی جائز نہیں ہے، وہ سخت گمراہی میں ہیں، وہ سوچیں، ان تک دین صحابۂ کرام ؓ ہی کے توسط سے پہنچا ہے، اگر وہی قابل اعتبار اور لائق تقلید نہیں، تو پہر آپ کے دین کی صحت کی کیا ضمانت ہے۔

       غرض صحابہ کا طبقہ امت کا ایک ایسا طبقہ ہے، جو من حیث الطبقة یعنی پوری کی پوری جماعت دین کے معاملہ میں مأمون و محفوظ ہے، اور وہ ہر اعتقادی گمراہی یا عملی خرابی سے پاک ہے، کیونکہ وہ بھی مبعوث ہے۔

      تیسری دلیل: بخاری شریف میں روایت ہے، ایک اعرابی نے مسجد نبوی میں پیشاب کرنا شروع کردیا، لوگوں نے اس کو لے لیا، آپ ﷺ  نے صحابہ سے فرمایا: اسے چھوڑو، اور اس کے پیشاب پر پانی کی ایک بالٹی ڈال دو، اور فرمایا: فانما بُعثتم میسرین، و لم تُبعثوا معسّرین ( کیونکہ تم آسانی کرنے والے بناکر ہی مبعوث کئے گئے ہو، تنگی کرنے والے بناکر مبعوث نہیں کئے گئے )( بخاری شریف کتاب الوضوء، حدیث نمبر ٢٢٠ مشکوٰۃ باب تطہیر النجاسات حدیث نمبر ٤٩١ ) یہ حدیث شریف صحابۂ کرام کی بعثت میں بالکل صریح اور دو ٹوک ہے، عُلم من ھٰذا الحدیث أن أمتہ ﷺ  أیضاً مبعوثةٌ الی الناس، فثبت لہ ﷺ بعثتان البتة ( عبیداللہ سندھی )۔

     فائدہ: آنحضورﷺ  افراد انبیاء کے خاتم ( آخری فرد ) ہیں، اس وجہ سے آپ ﷺ  کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آسکتا، رہی امت کی بعثت تو وہ صرف پیغام رسانی میں ہے، یعنی یہ بات کمالات نبوت میں ہے، اور کمالات نبوت باقی ہیں، ختم نہیں ہوئے، صرف نبوت ختم ہوئی ہے، پس امت کے کسی بھی فرد کو نبی نہیں کہہ سکتے۔

                                 ختم شد

مکمل تحریر >>

Thursday, 28 July 2016

کیاقرآن حکیم سے بیک وقت تین طلاق کا ثبوت نہیں؟ . . . . . .از: مولانا حبیب الرحمن اعظمی (مدیر) - - ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ6، جلد:100 ‏، شعبان1437 ہجری مطابق جون 2016ء

ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ6، جلد:100 ‏، شعبان1437 ہجری مطابق جون 2016ء



کیاقرآن حکیم سے بیک وقت تین طلاق کا ثبوت نہیں؟


از: مولانا حبیب الرحمن اعظمی (مدیر)


اسلام دین فطرت اور ایک جامع نظام زندگی ہے جو راستی وسچائی کا آخری بیان ہونے کی بنا پر کسی ترمیم وتبدیلی کی گنجائش نہیں رکھتا۔ اس کی تعلیمات میں ایک طر ف صلابت وقطعیت ہے تو دوسری طرف وہ اپنے اندر بے کراں جامعیت اور ہمہ گیری لیے ہوئے ہے۔ جس میں ہردم رواں پیہم دواں زندگی کے مسائل کے حل کی بھرپور صلاحیت ہے۔
قرآن حکیم جو خدائے لم یزل کا ابدی فرمانِ ہدایت ہے اصول وکلیات سے بحث کرتا ہے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان وحیِ ترجمان سے ان اصول وکلیات کی تشریح وتوضیح فرمائی ہے اور اپنے معصوم عمل سے ان کی تطبیق وتنفیذ کا مثالی نمونہ پیش کیاہے۔ صحابہٴ کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعین وتابعین عظام، ائمہ مجتہدین اور سلف صالحین قانون اسلامی کے انھیں دونوں ماخذوں یعنی کتاب وسنت کی روشنی میں اجماع واجتہاد کے ذریعہ اپنے اپنے دور میں پیش آمدہ مسائل وحوادث کا حل امت کے سامنے پیش کرتے رہے جس کا سلسلہ علماء حق کے ذریعہ کسی نہ کسی حد تک آج بھی جاری ہے۔
مغربی تہذیب جس کی بنیاد ہی اباحیت اور مذہبی واخلاقی قدروں کی پامالی پر ہے بدقسمتی سے آج پوری دنیا پر حاوی ہے۔ جس سے ہمارا ملک بھی مستثنیٰ نہیں ہے۔ مغربی تہذیب کی اسی اباحیت پسندی کی بنا پر آج کل بے ضرورت مسائل کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور ملک کا روشن خیال طبقہ جو نہ صرف مغربی تہذیب کادلدادہ ہے؛ بلکہ اس کا ترجمان ونمائندہ بھی ہے۔ ان بے ضرورت مسائل کو اٹھاتا رہتا ہے، حتیٰ کہ ایسے مسائل جو عہد صحابہ میں اجماعی طور پر طے پاچکے ہیں ان میں بھی تشکیک والتباس اور شکوک وشبہات ظاہر کرکے (جس کی انھیں بہ طور خاص تعلیم دی گئی ہے) ان کے لیے علماء سے من چاہے فتویٰ وفیصلہ کا ناروا مطالبہ کرتا رہتا ہے۔
مزید برآں عربی زبان وادب، قرآن وحدیث اور ان سے متعلق ضروری علم سے واجبی واقفیت کے بغیر یہ طبقہ دینی وشرعی مسائل میں اجتہاد کے فرائض انجام دینے کے خبط میں بھی مبتلا ہے اور کوشاں ہے کہ ائمہ مجتہدین وسلف صالحین کے بے لوث جہدوعمل کے ثمرات اور ان کی مخلصانہ کاوش سے حاصل شدہ متاع گراں مایہ جو مختلف مذاہب فقہ کی شکل میں امت کے پاس موجود ہے اسے نذر آتش کرکے از سر نو مسائل کے حل تلاش کیے جائیں؛ چنانچہ ”طلاق ثلاث“ کا مسئلہ اس کی زندہ مثال ہے جو آج کل ہمارے ان روشن خیال دانشوروں کی اجتہاد پسند اور ا باحیت نواز فکر ونظر سے گزرکر زبان وقلم کا ہدف بنا ہوا ہے اور عورتوں کی مفروضہ مظلومیت کا نام لے کر اسلام اور علماء اسلام کو دل کھول کر طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہا ہے، ایک ایسا مسئلہ جو چودہ سو برس پہلے طے پاچکا ہے جسے تمام صحابہ، جمہور تابعین، تبع تابعین، اکثر محدثین، فقہاء مجتہدین، بالخصوص ائمہ اربعہ اور امت کے سواد اعظم کی سند قبولیت حاصل ہے جس کی پشت پر قرآن محکم اور نبی مرسل صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث قویہ ہیں۔ اس کے خلاف آواز اٹھاکر اور عامة المسلمین کو اس کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا کرکے یہ اسلام کے نادان دوست اسلام کی کون سی خدمت انجام دینا چاہتے ہیں خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ ان لوگوں کو قطعاً اس کی پرواہ نہیں ہے کہ ان کے اس طرز عمل کا سلف پر کیا اثر پڑے گا، ان کے متعلق عوام کا کیا تصور قائم ہوگا اور ان اکابر اسلام پر عوام کا اعتماد باقی رہے گا یا نہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ ان کے اس غیر معقول رویہ سے نہ صرف ملت کی تضحیک ہورہی ہے؛ بلکہ اسلام مخالف عناصر کے لیے مسلم پرسنل لاء میں ترمیم وتبدیلی کا جواز بھی فراہم ہورہاہے؛ مگر ہمارے یہ دانشور چپ وراست سے آنکھیں بند کرکے شوقِ اجتہاد اور جوشِ تجدد میں اپنے ناوک قلم سے دینی احکام ومسائل میں رخنہ اندازی میں مصروف ہیں۔ (فالی اللّٰہ المشتکی)
نکاح کی اہمیت
اسلامی شریعت میں نکاح کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ قرآن وحدیث میں اس سے متعلق خصوصی احکامات صادر ہوئے ہیں اور ان کی ترغیب صریح ارشادات نبوی میں موجود ہے۔ ایک طویل حدیث کے آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فمن رغب عن سنتی فلیس منی“ جو میری سنت نکاح سے اعراض کرے گا وہ میرے طریقہ سے خارج ہے۔ (بخاری شریف، ج:۲، ص:۵۵۷)
ایک اور حدیث میں فرمایا ”ان سنتنا النکاح“ نکاح ہماری سنت ہے۔ (مسند امام احمد، ج:۵، ص:۱۶۳)
ایک حدیث میں نکاح کو تکمیل ایمان کا ذریعہ بتایا گیا ہے، خادم رسول انس بن مالک راوی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”من تزوج فقد استکمل نصف الایمان فلیتق اللّٰہ فی النصف الباقی“
جس نے نکاح کرلیا اس نے اپنے نصف ایمان کی تکمیل کرلی؛ لہٰذا اسے چاہیے کہ بقیہ نصف کے بارے میں اللہ سے ڈرتا رہے۔ (مشکوٰة ۲۶۷ وجمع الفوائد ج۱، ص۲۱۶)
انھیں جیسی احادیث کے پیش نظر امام اعظم ابوحنیفہ اور دیگر ائمہ نے عبادات نافلہ میں اشتغال کے مقابلہ میں نکاح کو افضل قرار دیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ نکاح کی ایک حیثیت اگر باہمی معاملہ کی ہے تو اسی کے ساتھ عام معاملات و معاہدات سے بالاتر یہ سنت وعبادت کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ نکاح کی اسی خصوصی اہمیت کی بنا پر اس کے انعقاد اور وجود پذیر ہونے کے لیے باجماع کچھ ایسے آداب اور ضروری شرائط ہیں جو دیگر معاملات، خرید وفروخت وغیرہ میں نہیں ہیں، مثلاً ہر عورت اور ہر مرد سے نکاح درست نہیں، اس سلسلے میں اسلامی شریعت کا ایک مستقل قانون ہے جس کی رو سے بہت سی عورتوں اور مردوں کا باہم نکاح نہیں ہوسکتا۔ دیگر معاملات کے منعقد ومکمل ہونے کے لیے گواہی شرط نہیں ہے، جب کہ نکاح کے انعقاد کے واسطے گواہوں کا موجود ہونا شرط ہے، اگر مرد وعورت بغیر گواہوں کے نکاح کرلیں تو یہ نکاح قانونِ شرع کے لحاظ سے باطل اور کالعدم ہوگا۔
یہ خصوصی احکام اور ضروری پابندیاں بتارہی ہیں کہ معاملہٴ نکاح کی سطح دیگر معاملات و معاہدات سے بلند ہے، شریعت کی نگاہ میں یہ ایک بہت ہی سنجیدہ اور قابلِ احترام معاملہ ہے جو اس لیے کیا جاتا ہے کہ باقی رہے، یہاں تک کہ موت ہی زوجین کو ایک دوسرے سے جدا کردے۔ یہ ایک ایسا قابلِ قدر رشتہ ہے، جو تکمیلِ انسانیت کا ذریعہ اور رضائے الٰہی واتباعِ سنت کا وسیلہ ہے، جس کے استحکام پر گھر، خاندان اور معاشرے کا استحکام موقوف ہے اور جس کی خوبی وخوشگواری پر معاشرے کی خوبی وبہتری کا دارومدار ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کے انقطاع اور ٹوٹنے سے صرف فریقین (میاں بیوی) ہی متاثر نہیں ہوتے؛ بلکہ اس سے پورے نظام خانگی کی چولیں ہل جاتی ہیں اور بسا اوقات خاندانوں میں فساد ونزاع تک کی نوبت پہنچ جاتی ہے جس سے معاشرہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اسی بناء پر بغیر ضرورت طلاق (جو رشتہٴ نکاح کو منقطع کرنے کا شرعی ذریعہ ہے) خدائے دوجہاں کے نزدیک ایک ناپسندیدہ اورناگوار عمل ہے۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ”أبغض الحلال الی اللّٰہ عز وجل الطلاق“ اللہ کی حلال کردہ چیزوں میں طلاق سے زیادہ مبغوض اور کوئی چیز نہیں۔ (سنن ابی داؤد ج۱، ص۳۰۲، المستدرک للحاکم ج۲، ص۱۶۹ وقال الذہبی صحیح علی شرط مسلم)
اسلام کا ضابطہٴ طلاق
اس لیے جو اسباب ووجوہ اس بابرکت اور محترم رشتہ کو توڑنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں، انھیں راہ سے ہٹانے کا کتاب وسنت کی تعلیمات نے مکمل انتظام کردیا ہے۔ زوجین کے باہمی حالات ومعاملات سے متعلق قرآن وحدیث میں جو ہدایتیں دی گئی ہیں، ان کا مقصد یہی ہے کہ یہ رشتہ کمزور ہونے کی بجائے پائیدار اور مستحکم ہوتا چلا جائے۔ ناموافقت کی صورت میں افہام وتفہیم، پھر زجر وتنبیہ اور اگر اس سے کام نہ چلے اور بات بڑھ جائے تو خاندان ہی کے افراد کو حکم وثالث بناکر معاملہ طے کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔
لیکن بسااوقات حالات اس حد تک بگڑ جاتے ہیں کہ اصلاح حال کی یہ ساری کوششیں بے سود ہوجاتی ہیں اور رشتہ ازدواج سے مطلوب ثمرات وفوائد حاصل ہونے کے بجائے زوجین کا باہم مل کر رہنا ایک عذاب بن جاتا ہے۔ ایسی ناگزیر حالت میں ازدواجی تعلق کا ختم کردینا ہی دونوں کے لیے؛ بلکہ پورے خاندان کے لیے باعث راحت ہوتا ہے، اس لیے شریعت اسلامی نے طلاق اور فسخ نکاح کا قانون بنایا، جس میں طلاق کا اختیار صرف مرد کو دیاگیا جس میں عادتاً وطبعاً عورت کے مقابلہ میں فکر وتدبراور برداشت وتحمل کی قوت زیادہ ہوتی ہے، علاوہ ازیں مرد کی قوامیت وافضلیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ یہ اختیار صرف اسی کو حاصل ہو؛ لیکن عورت کو بھی اس حق سے یکسر محروم نہیں کیا کہ وہ ”کالمیت فی ید الغسال“ شوہر کے ہر ظلم و جور کا ہدف بنی رہے اور اپنی رہائی کے لیے کچھ نہ کرسکے؛ بلکہ اسے بھی یہ حق دیا کہ شرعی عدالت میں اپنا معاملہ پیش کرکے قانون کے مطابق طلاق حاصل کرسکتی ہے یا نکاح فسخ کراسکتی ہے۔
پھر مرد کو طلاق کا اختیار دے کر اسے بالکل آزاد نہیں چھوڑدیا؛ بلکہ اسے تاکیدی ہدایت دی کہ کسی وقتی وہنگامی ناگواری میں اس حق کو استعمال نہ کرے، اس پر بھی سخت تنبیہ کی گئی کہ حق طلاق کو دفعتاً استعمال کرنا غیر مناسب اورنادانی ہے؛ کیونکہ اس صورت میں غور وفکر اور مصالح کے مطابق فیصلہ لینے کی گنجائش ختم ہوجائے گی، جس کا نتیجہ حسرت وندامت کے سوا کچھ نہیں۔ اس کی بھی تاکید کی گئی کہ حیض کے زمانہ میں یا ایسے طہر میں جس میں ہم بستری ہوچکی ہے طلاق نہ دی جائے؛ کیونکہ اس صورت میں عورت کو خوامخواہ طول عدت کا ضرر پہنچ سکتا ہے؛ بلکہ اس حق کے استعمال کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جس طہر میں ہم بستری نہیں کی گئی ہے ایک طلاق دے کر رک جائے، عدت پوری ہوجانے پر رشتہ نکاح ختم ہوجائے گا۔ دوسری یا تیسری طلاق کی ضرورت نہیں پڑے گی اور اگر دوسری یا تیسری طلاق دینی ہی ہے تو الگ الگ طہر میں دی جائے۔
پھر معاملہ نکاح کے توڑنے میں یہ لچک رکھی کہ ایک یا دو بار صریح لفظوں میں طلاق دینے سے فی الفور نکاح ختم نہیں ہوگا؛ بلکہ عدت پوری ہونے تک یہ رشتہ باقی رہے گا۔ دوران عدت اگر مرد طلاق سے رجوع کرلے تو نکاح سابق بحال رہے گا، جب کہ دیگر معاملات بیع وشراء وغیرہ میں یہ گنجائش نہیں ہے۔ نیز عورت کو ضرر سے بچانے کی غرض سے حق رجعت کو بھی دوطلاق تک محدود کردیاگیا؛ تاکہ کوئی شوہر محض عورت کو ستانے کے لیے ایسا نہ کرسکے کہ ہمیشہ طلاق دیتا رہے اور رجعت کرکے قید نکاح میں اسے محبوس رکھے؛ بلکہ شوہر کو پابند کردیاگیا کہ اختیار رجعت صرف دو طلاقوں تک ہی ہے، تین طلاقوں کی صورت میں یہ اختیار ختم ہوجائے گا؛ بلکہ فریقین اگر باہمی رضا سے نکاح ثانی کرنا چاہیں تو ایک خاص صورت کے علاوہ یہ نکاح درست اور حلال نہیں ہوگا۔ آیت پاک ”الطلاق مرتان“ اور ”فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ“ میں یہی قانون بیان کیاگیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ اگر کسی نے تیسری طلاق دے دی تو معاملہ نکاح ختم ہوگیا اور اب مرد کو نہ صرف یہ کہ رجعت کا اختیار نہیں؛ بلکہ تین طلاقوں کے بعد اگریہ دونوں باہمی رضا سے پھر رشتہٴ نکاح میں منسلک ہونا چاہیں تو وہ ایسا نہیں کرسکتے تاوقتیکہ یہ عورت عدتِ طلاق گزارکر دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے، نیز حقوقِ زوجیت سے بہرہ ور ہوتے ہوئے دوسرے شوہر کے ساتھ رہے پھر اگر اتفاق سے یہ دوسرا شوہر بھی طلاق دے دے یا وفات پاجائے تو اس کی عدت پوری کرنے کے بعد پہلے شوہر سے نکاح ہوسکتا ہے۔ آیت کریمہ ”فان طلقہا فلا جناح علیہما ان یتراجعا“ میں اسی نکاحِ جدید کا بیان ہے۔ یعنی پھر اگر یہ دوسرا شوہر اس کو طلاق دے دے تو ان پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ دوبارہ باہم رشتہٴ ازدواج قائم کرلیں۔ شریعتِ اسلامی کے وضع کردہ اس ضابطہٴ طلاق پر اگر پورے طور پر عمل کیا جائے تو طلاق دینے کے بعد نہ کسی شوہر کو حسرت وندامت سے دوچار ہونا پڑے گا اورنہ ہی کثرتِ طلاق کی یہ وبا باقی رہے گی، جس کے نتیجہ میں طرح طرح کے ناگوار مسائل پیدا ہوتے ہیں جو نہ صرف مسلم معاشرہ کے لیے دردِ سر بنے ہوئے ہیں؛ بلکہ اسلام مخالف عناصر کو اسلامی قانونِ طلاق میں کیڑے نکالنے اور طعنہ زنی کا موقع فراہم کررہے ہیں۔ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللّٰہ وجہہ کا ارشاد ہے: ”لو ان الناس اصابو احد الطلاق ما ندم رجل طلق امرأتہ“ اگر لوگ طلاق سے متعلق پابندیوں پر قائم رہیں تو کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے کر گرفتار ندامت نہیں ہوگا۔ (احکام القرآن جصاص رازی ج۱، ص۳۸۷)
اس موقع پرایک سوال یہ بھی اُٹھتا ہے کہ اگر کسی نے ازراہِ حماقت وجہالت طلاق کے مستحسن اور بہتر طریقہ کو چھوڑ کر غیر مشروع طور پر طلاق دے دی، مثلاً الگ الگ تین طہروں میں طلاق دینے کے بجائے ایک ہی مجلس میں یا ایک ہی تلفظ میں تینوں طلاقیں دے ڈالیں تو اس کا اثر کیا ہوگا؟
آج کل ایک خاص مقصد کے تحت ایک مخصوص طبقہ مختلف ذرائع سے عامة المسلمین کو یہ باور کرانے کی کوشش میں مصروف ہے کہ ایک مجلس یا ایک تلفظ میں دی گئی تین طلاقیں شرعاً ایک ہی شمارہوں گی اور اس طرح دی گئی تین طلاقوں کے بعد ازدواجی تعلق برقرار اور شوہر کو رجعت کا اختیار باقی رہے گا؛ جب کہ ظاہر قرآن، احادیث صحیحہ، آثار صحابہ اور اقوال فقہاء ومحدثین سے ثابت ہے کہ مجلسِ واحد یا کلمہٴ واحدہ کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوں گی۔ شریعتِ اسلامی کا یہ ایسا مسئلہ ہے جس پر عہدِ فاروقی میں حضراتِ صحابہ کا اجماع واتفاق ہوچکا ہے، جس کے بعد اختلاف کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ اسی بنا پر ائمہ اربعہ امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد بیک زبان کہتے ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاق چاہے بیک لفظ دی جائیں یا الگ الگ لفظوں سے واقع ہوجاتی ہیں اور تین طلاقوں کے بعد چاہے، وہ جس طرح بھی دی گئی ہوں رجعت کرنا ازروئے شرع ممکن نہیں ہے۔ یہی جمہور سلف وخلف کا مسلک ہے۔ ذیل میں اس مسئلہ سے متعلق قرآن کی تین آیتوں کی تفسیرپیش کی جارہی ہیں۔
(۱)     آیت پاک الطلاق مرتان الخ کی تفسیر
مسئلہ زیربحث میں ضروری ہے کہ سب سے پہلے قرآن حکیم کی ”آیت طلاق“ پر غور کرلیا جائے؛ کیونکہ مسئلہٴ طلاق میں اس کی حیثیت ایک بنیادی ضابطہ اور قانون کی ہے۔ اس آیت کی تفسیر وتاویل معلوم ہوجانے سے انشاء اللہ مسئلہ کی بہت ساری گتھیاں از خود سلجھ جائیں گی۔
عہدِ جاہلیت میں طلاقیں دینے اور پھر عدت میں رجوع کرلینے کی کوئی حد نہیں تھی، سیکڑوں طلاقیں دی جاسکتی تھیں اور پھر عدت کے اندر رجوع کیاجاسکتا تھا، بعض لوگ جنھیں اپنی بیویوں سے کسی بناء پر کدہوجاتی اور وہ انھیں ستانا اور پریشان کرنا چاہتے تو طلاقیں دے دے کر عدت میں رجوع کرتے رہتے تھے، نہ خود ان کے ازدواجی حقوق ادا کرتے اورنہ انھیں آزاد کرتے اور اس طرح وہ مجبور محض اور بے بس ہوکر رہ جاتی تھیں، جب تک طلاق سے متعلق اسلام میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا مسلمانوں میں بھی طلاق کایہی طریقہ جاری رہا، امام قرطبی لکھتے ہیں:”وکان ہذا اوّل الاسلام برہة“ (جامع احکام القرآن ج۳، ص۱۲۶) ابتدائے اسلام میں ایک عرصہ تک یہی طریقہ رائج رہا۔
اخرج البیہقی بسندہ عن ہشام ہِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِیہِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا قَالَتْ: ”کَانَ الرَّجُلُ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہُ مَا شَاءَ أَنْ یُطَلِّقَہَا وَإِنْ طَلَّقَہَا مِائَةً أَوْ أَکْثَرَ إِذَا ارْتَجَعَہَا قَبْلَ أَنْ تَنْقَضِیَ عِدَّتُہَا حَتَّی قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِہِ لَا أُطَلِّقُکِ فَتَبِینِی وَلَا أُؤْوِیکِ إِلِیَّ قَالَتْ: وَکَیْفَ ذَاکَ؟ قَال: أُطَلِّقُکِ فَکُلَّمَا ہَمَّتْ عِدَّتُکِ أَنْ تَنْقَضِیَ ارْتَجَعْتُکِ وَأَفْعَلُ ہَکَذَا! فَشَکَتِ الْمَرْأَةُ ذَلِکَ إِلَی عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا فَذَکَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِکَ رسول اللّٰہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَکَتَ فَلَمْ یَقُلْ شَیْئًا حَتَّی نَزَلَ الْقُرْآنُ (الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ) الآیة، فَاسْتَأْنَفَ النَّاسُ الطَّلَاقَ فَمَنْ شَاءَ طَلَّقَ وَمَنْ شَاءَ لَمْ یُطَلِّقْ“ وَرَوَاہُ أَیْضًا قُتَیْبَةُ بْنُ سَعِیدٍ وَالْحُمَیْدِیُّ عَنْ یَعْلَی بْنِ شَبِیبٍ وَکَذَلِکَ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ یَسَارٍ بِمَعْنَاہُ وَرُوِیَ نُزُولُ الآیَةِ فِیہِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِیہِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا (سنن الکبریٰ للبیقہی مع الجوہر النقی ج۷، ص۳۳۳ مطبوعہ حیدرآباد)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ مرد اپنی بیوی کو جتنی طلاقیں دینا چاہتا دے سکتا تھا، اگرچہ وہ طلاقیں سیکڑوں تک پہنچ جائیں ، بشرطیکہ عدت پوری ہونے سے پہلے رجوع کرلے، یہاں تک کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں تجھے اس طرح طلاق نہ دوں گا کہ تو مجھ سے الگ ہوجائے اورنہ میں تجھے اپنی پناہ ہی میں رکھوں گا، اس عورت نے پوچھا کہ یہ معاملہ تم کس طرح کروں گے، اس نے جواب دیا: میں تجھے طلاق دوں گا اور جب عدت پوری ہونے قریب ہوگی تو رجوع کرلوں گا، طلاق اور رجعت کا یہ سلسلہ جاری رکھوں گا، اس عورت نے اپنے شوہر کی اس دھمکی کی شکایت حضرت عائشہ سے کی، حضرت عائشہ نے اس کا ذکر آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سن کر خاموش رہے اس پر کچھ فرمایا نہیں؛ تاآنکہ قرآن حکیم کی آیت (الطلاق مرتان الخ) نازل ہوگئی، تو اس وقت سے لوگوں نے آیت کے مطابق طلاق کی ابتدا کی جس نے چاہا اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور جس نے چاہا نہ دی، امام بیہقی کہتے ہیں کہ اس روایت کو قتیبہ بن سعید اور حمیدی نے بھی یعلی بن شبیب کے واسطہ سے نقل کیا ہے، اسی طرح محمد ابن اسحاق امام المغازی نے ہشام کے واسطہ سے حضرت عائشہسے الفاظ کے کچھ اختلاف کے ساتھ اسے بیان کیا ہے۔
وأخرج ابن مردویة بسندہ عن عائشة قالت لم یکن للطلاق وقت یطلق الرجل امرأة ثم یراجعہا مالم تنقص العدة فوقت لہم الطلاق ثلاثا یراجعہا فی الواحدة والثنتین ولیس فی الثالثة رجعة حتی تنکح زوجا غیرہ (تفسیر ابن کثیر ج۱، ص۲۷۲)
”حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ طلاق کی کوئی حد نہیں تھی آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے کر عدت کے اندر رجوع کرلیا کرتاتھا تو ان کے لیے تین طلاق کی حد مقرر کردی گئی ایک اور دو طلاقوں تک رجعت کرسکتا ہے، تیسری کے بعد رجعت نہیں تاوقتیکہ مطلقہ کسی اور سے نکاح نہ کرلے۔“
اس روایت کے بارے میں حافظ ابن کثیر نے لکھا ہے ورواہ الحاکم فی مستدرکہ وقال صحیح الاسناد، اس روایت کو امام حاکم نے مستدرک میں نقل کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کی سند صحیح ہے۔
حضرت ابن عباس کی روایت ہے:
أخرج أبوداوٴد عن ابن عباس رضي اللّٰہ عنہما ”المطلقات یتربصن فانفسہن ثلاثة قروء ولا یحل لہن أن یکتمن ما خلق اللّٰہ فی أرحامہن“ الآیة وذلک أن الرجل کان اذا طلق امرأتہ فہو أحق برجعتہا وان طلقہا ثلاثًا فنسخ ذلک فقال ”الطلاق مرتان“ (بذل المجہود شرح سنن أبو داود باب فی سنخ المراجعة بعد التطلیقات الثلاث ج۲، ص۶۱)
”مطلقہ عورتیں انتظار میں رکھیں اپنے آپ کو تین حیض تک اور انھیں حلال نہیں اس چیز کا چھپانا جواللہ نے ان کے رحم میں پیدا کی ہے، دستور یہ تھا کہ مرد جب اپنی بیوی کو طلاق دیتا تو رجعت کا حق رکھتا تھا، اگرچہ تین طلاقیں دی ہوں پھر اس طریقہ کو منسوخ کردیاگیا، اللہ جل شانہ نے فرمایا: الطلاق مرتان، یعنی طلاق رجعی دو ہیں۔
الفاظ کے فرق کے ساتھ سبب نزول سے متعلق اسی طرح کی روایتیں موطا امام مالک اور جامع ترمذی اور تفسیر طبری وغیرہ میں بھی ہیں، ان تمام روایتوں کا حاصل یہ ہے کہ آیت کریمہ ”الطلاق مرتان“ کے ذریعہ قدیم طریقہ کو منسوخ کرکے طلاق اور رجعت دونوں کی حد متعین کردی گئی کہ طلاق کی تعداد تین ہے اور رجعت دو طلاقوں تک کی جاسکتی ہے اس کے بعد رجعت کا اختیار ختم ہوجائے گا ”فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ“ دو کے بعد اگر تیسری طلاق دے دی تو بیوی حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ کسی مرد سے نکاح کرلے، حدیث میں ”تنکح زوجا غیرہ“ کی تفسیر یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ دوسرا شوہر لطف اندوز صحبت بھی ہو۔
قدوة المفسرین امام ابن جریر طبری متوفی ۳۰۹ھ سبب نزول کی روایت متعدد سندوں سے ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
فتاویل الآیة علی ہذا الخبر الذی ذکرنا، عدد الطلاق الذی لکم أیہا الناس فیہ علی ازواجکم الرجعة اذا کن مدخولا بہن تلطیقتان ثم الواجب بعد التطلیقتین امساک بمعروف او تسریح باحسان لانہ لا رجعة لہ بعد التطلیقتین ان سرحہا فطلقہا الثلاث
”آیت پاک کی تفسیر ان روایتوں کے پیش نظر جو ہم نے اوپر ذکر کی ہیں یہ ہے کہ طلاق کی وہ تعداد جس میں تمھیں اے لوگو اپنی مطلقہ بیویوں سے رجعت کا حق ہے؛ جبکہ ان سے ہم بستری ہوچکی ہو دو طلاقیں ہیں۔ ان دو طلاقوں کے بعد خوش اسلوبی کے ساتھ نکاح میں روک لینا ہے یا حسن سلوک کے ساتھ چھوڑ دینا ہے، اس لیے کہ دو طلاقوں کے بعد رجعت نہیں ہے، اگر چھوڑنا چاہے تو تیسری طلاق دے دے۔“
اس کے بعد آیت سے متعلق دوسرا قول ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:
وقال الآخرون انما انزل ہذہ الآیة علی نبی اللّٰہ (صلی اللّٰہ علیہ وسلم) تعریفاً من اللّٰہ تعالیٰ ذکرہ عبادہ سنة طلاقہم نسائہم اذا ارادوا طلاقہن لا دلالتہ علی القدر الذی تبین بہ المرأة من زوجہا وتاویل الآیة علی قول ہٰوٴلاء سنة الطلاق التی سنتہا وابحتہا لکم ان اردتم طلاق نسائکم ان تطلقوہن ثنتین فی کل طہر واحدة ثم الواجب بعد ذلک علیکم اما ان تمکسوہن بمعروف او تسرحوہن باحسان
”اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ یہ آیت منجانب اللہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اللہ کی طرف سے بندوں کو اپنی بیویوں کو طریقہ طلاق سکھانے کے لیے، اس آیت کا مقصد طلاق بائن کی تعداد بیان کرنا نہیں ہے، ان حضرات کے اس قول کے تحت آیت کی تفسیر یہ ہوگی کہ طلاق کا طریقہ جو میں نے جاری اور تمہارے لیے مباح کیا، یہ ہے کہ اگر تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو انھیں دو طلاقیں ایک ایک طہر میں دو، ان دو طلاقوں کے بعد تم پر واجب ہوگا کہ انھیں دستور شرعی کے مطابق روک لو یا خوبصورتی کے ساتھ چھوڑ دو۔“
شان نزول سے متعلق ان دونوں روایتوں ا ور ان کے تحت آیت کی تفسیر نقل کرنے کے بعد اپنی ترجیحی رائے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
(۱) والذی أولی بظاہر التنزیل ما قالہ عروة وقتادة ومن قال مثل قولہما من ان الآیة انما ہی دلیل علی عدد الطلاق الذی یکون بہ التحریم وبطلان الرجعة فیہ والذی یکون فیہ الرجعة منہ وذلک ان اللّٰہ تعالیٰ ذکرہ قال فی الآیة التی تتلوہا ”فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ“ فعرف عبادہ القدر الذی بہ تحرم المرأة علی زوجہا الا بعد زوج ولم یبین فیہا الوقت الذی یجوز الطلاق فیہ والوقت الذی لایجوز فیہ (جامع البیان فی تفسیر القرآن، ج۳، ص۲۵۹)
”ظاہر قرآن سے زیادہ قریب وہی بات ہے جو عروہ، قتادہ وغیرہ نے کہی ہے، یعنی یہ آیت دلیل ہے اس عددطلاق کی جس سے عورت حرام اور رجعت کرنی باطل ہوجائے گی اور جس طلاق کے بعد رجعت ہوسکتی ہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے بعد ”فان طلّقہا فلا تحل لہ“ کا ذکر کرکے بندوں کو طلاق کی اس تعداد کو بتایا ہے جس سے عورت اپنے شوہر پر حرام ہوجائے گی؛ مگر یہ کہ دوسرے شوہر سے رشتہٴ نکاح قائم کرلے، اس موقع پر ان اوقات کا ذکر نہیں فرمایا ہے جن میں طلاق جائز اورناجائز ہوتی ہے۔“
امام ابن جریر طبری کے علاوہ حافظ ابن کثیر اورامام رازی نے بھی اسی تفسیر کو راجح قرار دیاہے، نیز علامہ سید آلوسی حنفی نے اس کو ”الیق بالنظم و اوفق بسبب النزول“ (یعنی نظم قرآن سے زیادہ مناسب اور سبب نزول سے خوب چسپاں ہے) بتایا ہے۔ (روح المعانی ج۲، ص۱۳۵)
آیت پاک ”الطلاق مرتان“ کی اس تفسیر کا (جسے امام طبری وغیرہ نے اولیٰ اور راجح قرار دیا ہے) سبب نزول سے موافق ہونا تو ظاہر ہے، رہی بات نظم قرآن کے ساتھ اس تفسیر کی مناسبت ومطابقت کی تو اس کو سمجھنے کے لیے آیت کے سیاق وسباق پر نظر ڈالیے، آیت زیر بحث سے پہلے ”والمطلقات یتربصن بانفسہن ثلثة قروء“ کا ذکر ہے طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو انتظار میں رکھیں تین حیض تک ”بعد ازاں اس مدت انتظار میں شوہر کے حق رجعت کا حکم بیان فرمایا گیا وبعولتہن احق بردہن فی ذلک ان ارادوا اصلاحًا“ اور ان کے شوہر حق رکھتے ہیں ان کے لوٹالینے کا اس مدت میں اگر چاہیں سلوک سے رہنا۔
اس آیت کے نزول کے وقت قدیم رواج کے مطابق حق رجعت بغیر کسی قید کے بحالہ باقی تھا چاہے سیکڑوں طلاقیں کیوں نہ دی جاچکی ہوں۔ (تفسیر ابن کثیر ج۱، ص۲۷۱) اور اس بے قید حق رجعت سے عورتیں جس ناقابل برداشت مصیبت میں مبتلا ہوجاتی تھیں، اس کا اندازہ سببِ نزول سے متعلق اوپر مذکور روایت سے ہوچکا ہے؛ چنانچہ اس کے بعد آیت ”الطلاق مرتان“ نازل ہوئی، جس کے ذریعہ قدیم طریقہ کو ختم کرکے ایک جدید قانون نافذ کردیاگیا کہ رجعت کا حق صرف دو طلاقوں تک ہوگا، اس کے بعد طلاق کی آخری حد بیان کرنے کے لیے ارشاد ہوا”فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجاً غیرہ“ اور تین طلاقیں دے دیں تو اب عورت اس کے لیے حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے (اور دوسرا شوہر اس کی صحبت سے لطف اندوز نہ ہولے۔ الحدیث) اس کے ساتھ ازدواجی رشتہ قائم کرنا جائز نہ ہوگا۔
کلام خداوندی کے اس انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ آیت ”الطلاق مرتان“ کا مقصد نزول طلاق رجعی کی حد اور طلاقوں کی انتہائی تعداد بیان کرنا ہے، قطع نظر اس کے کہ یہ طلاق بلفظ واحد دی گئی ہو یا بالفاظ مکررہ۔ ایک مجلس میں دی گئی ہو یا الگ الگ مختلف مجلسوں میں، بس یہی دو باتیں اس آیت سے ثابت ہوتی ہیں، تفریق مجلس کے لیے اس آیت میں ادنیٰ اشارہ بھی نہیں ہے، لفظ ”مرتان“ کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ دو طلاقیں بیک وقت وبیک کلمہ نہ دی جائیں؛ بلکہ الگ الگ الفاظ سے دی جائیں۔
مرتین کے معنی کی تحقیق
پھر ”مرتان“ کا لفظ ”مرة بعد اخری“ یعنی یکے بعد دیگرے (ایک کے بعد دوسرا) کے معنی میں قطعی بھی نہیں ہے؛ کیونکہ یہ لفظ جس طرح یکے بعد دیگرے کے معنی میں استعمال کیاگیا ہے، اسی طرح ”عددان“ یعنی دوچند اور ڈبل کے معنی میں بھی استعمال کیاگیا ہے، جس کی چند مثالیں پیش کی جارہی ہیں۔
الف: اولئک یوتون اجرہم مرتین یہ لوگ (یعنی مومنین اہل کتاب) دیے جائیں گے اپنا اجر وثواب دوگنا۔
ب: اسی طرح ازواج مطہرات رضوان اللّٰہ علیہن اجمعین کے بارے میں ارشاد ربانی ہے۔ ومن یقنت منکن للّٰہ ورسولہ وتعمل صالحا نوٴتہا اجرہا مرتین اور جو کوئی تم میں اطاعت کرے اللہ کی اوراس کے رسول کی اور عمل کرے اچھا تو ہم دیں گے اس کو اس کا ثواب دوگنا۔
ان دونوں قرآنی آیتوں میں ”مرتین“ عددین یعنی دو چند اور دوہرے ہی کے معنی میں ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کو الگ الگ دو مرتبہ ثواب دیا جائے گا۔
اب حدیث سے دو مثالیں بھی ملاحظہ کیجیے۔
(۱) بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”العبد اذا نصح لسیدہ وأحسن عبادة ربہ کان لہ اجرہ مرتین غلام جب اپنے آقا کا خیرخواہ ہوگا اور اپنے رب کی عبادت میں مخلص تو اسے دوہرا اجر ملے گا“ یہاں مرتین مضاعفین یعنی دوگنے اور دوہرے ہی کے معنی میں ہے۔
(۲)صحیح مسلم شریف میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ان أہل مکة سأل رسول اللہ ان یریہم آیة فاراہم انشقاق القمر مرتین“(صحیح مسلم ج۲، ص۳۷۳)
”مکہ والوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا تو آپ نے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا معجزہ دکھایا۔“
اس حدیث میں ”مرتین“ فلقتین یعنی دوٹکڑے کے معنی میں ہے، یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ نے انھیں ”مرة بعد أخری“ یکے بعد دیگرے شق القمر کا معجزہ دکھایا؛ کیونکہ سیرت رسول سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ شق القمر (چاند کے دو ٹکڑے ہونے) کا معجزہ صرف ایک بار ظاہر ہواہے؛ چنانچہ خود حافظ ابن القیم نے اپنی مشہور کتاب ”اغاثة اللہفان“ میں حدیث مذکور کو نقل کرکے مرتین کا معنی سقتین وفلقتین ہی بیان کیا ہے اوراس کے بعد لکھا ہے۔
ولما خفی ہذا علی من لم یحط بہ علما زعم ان الانشقاق وقع مرة بعد مرة فی زمانین وہٰذا مما یعلم أہل الحدیث ومن لہ خبرة بأحوال الرسول وسیرتہ أنہ غلط وأنہ لم یقع الانشقاق الامرة واحدة (بحوالہ اعلاء السنن،ج۱۱، ص۱۷۹)
”مرتین کا یہ معنی جن لوگوں پر ان کی کم علمی کی بناء پر مخفی رہا انھوں نے سمجھ لیا کہ شق القمر کا معجزہ مختلف زمانوں میں متعدد بار ظاہر ہوا ہے، علماء حدیث اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال اور سیرت سے واقف اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ مرتین کا یہ معنی اس جگہ غلط ہے، کیونکہ شق القمر کا معجزہ صرف ایک ہی بار ظہور میںآ یا ہے۔“
حافظ ابن القیم نے مرتین کی مراد سے متعلق اس موقع پر جو اصول ذکر کیا ہے کہ اگر مرتان سے افعال کا بیان ہوگا تو اس وقت تعداد زمانی یعنی یکے بعد دیگرے کے معنی میں ہوگا، کیونکہ دو کاموں کاایک وقت میں اجتماع ممکن نہیں ہے، مثلاً جب کوئی یہ کہے کہ ”اکلتُ مرّتین“تو اس کا لازمی طور پر معنی یہ ہوگا کہ میں نے دوبار کھایا؛ اس لیے کہ دو اکل یعنی کھانے کا دو عمل ایک وقت میں نہیں ہوسکتا اور جب مرتین سے اعیان یعنی ذات کا بیان ہوگا تواس وقت یہ ”عددین“ دو چند اور ڈبل کے معنی میں ہوگا، کیونکہ دو ذاتوں کا ایک وقت میں اکٹھا ہونا ممکن ہے۔
موصوف کے اس اصول کے اعتبار سے بھی آیت پاک ”الطلاق مرتان“ میں مرتین، عددین کے معنی میں ہوگا؛ کیونکہ اوپر کی تفصیل سے یہ بات منقح ہوچکی ہے کہ اس آیت میں طلاق رجعی کی تعداد بیان کی گئی ہے۔ تطلیق یعنی طلاق دینے کی کیفیت کا بیان نہیں ہے اور طلاق ذات اور اسم ہے فعل نہیں ہے۔
البتہ امام مجاہد وغیرہ کے قول پر (جن کے رائے میں آیت مذکورہ طریقہٴ طلاق بیان کرنے کے لیے نازل ہوئی ہے ”الطلاق“ تطلیق یعنی طلاق دینے کے معنی میں ہوگا اور طلاق دینا ایک فعل ہے تو اس وقت ”مرتین“ کا معنی مرة بعد اخریٰ اور یکے بعد دیگرے ہوگا، اس معنی کی صورت میں بھی ”الطلاق مرتان“ سے صرف اتنی بات ثابت ہوگی کہ دو طلاقیں الگ الگ آگے پیچھے دی جائیں بیک کلمہ نہ دی جائیں، اس سے زیادہ کوئی اور قید مثلاً تفریق مجلس وغیرہ کی تو اس آیت میں اس کا معمولی اشارہ بھی نہیں ہے؛ اس لیے اگر ایک مجلس یا ایک طہر میں انت طالق، انت طالق تجھ پر طلاق ہے، تجھ پر طلاق ہے۔ الگ الگ تلفظ کے ذریعہ طلاق دی جائے تو یہ صورت ”الطلاق مرتان“ طلاق یکے بعد دیگرے ہے، کے عین مطابق ہوگی، لہٰذا اس آیت کے مطابق یہ دونوں طلاقیں ایک مجلس یا ایک طہر میں ہونے کے باوجود واقع ہوجائیں گی اور جب اس آیت کی رو سے ایک مجلس یا ایک طہر کی متعدد تلفظ سے دی گئی طلاقیں واقع ہوجاتی ہیں تو ایک تلفظ سے دی گئی طلاقیں بھی واقع ہوجائیں گی؛ کیونکہ ایک مجلس میں دی گئی دونوں طلاقوں (یعنی ایک تلفظ سے اور متعدد تلفظ سے) کا حکم بغیر کسی اختلاف کے سب کے نزدیک یکساں ہے۔ (دیکھیے احکام القرآن امام جصاص رازی ج۱، ص۳۸۶، المطبعة السلفیة، مصر)
اسی بناء پر جو حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ آیت ”الطلاق مرتان“ میں طلاق دینے کا طریقہ بتایا گیا ہے اور ”مرتین“ مرة بعد اخریٰ یکے بعد دیگرے کے معنی میں ہے وہ حضرات بھی اسی کے قائل ہیں کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں تین ہی شمار ہوں گی۔ اگرچہ طلاق دینے کا یہ طریقہ غلط ہے؛ لیکن غلط طریقہ اختیار کرنے سے طلاق کے وقوع پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، ہاں اس طرح طلاق دینے والاغلط طریقہ اختیار کرنے کا مجرم ہوگا۔
آیت طلاق پر اس تفصیلی بحث سے یہ بات کھل کر معلوم ہوگئی کہ آیت پاک میں واقع لفظ ”مرتین“ کا معنی مرة بعد اخریٰ یعنی یکے بعد دیگرے بھی صحیح ہے اور ثنتین یعنی دو کا معنی بھی درست ہے۔ نیز دونوں معنی کے اعتبار سے ایک مجلس یا ایک تلفظ میں دی گئی تین طلاقیں اس آیت کی رو سے واقع ہوجائیں گی اور اس کے بعد بحکم قرآن ”فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ“ حق رجعت ختم ہوجائے گا؛ اس لیے جو لوگ کہتے ہیں کہ ایک مجلس میں دی گئی تین طلاقوں کے بعد بھی حق رجعت باقی رہتا ہے وہ قانون الٰہی کی مقررہ حد کو توڑ رہے ہیں اور ایک چور دروازہ نکال رہے ہیں؛ تاکہ ظالم شوہروں کو مزید ظلم کا موقع ہاتھ آجائے یا کم از کم قانون کے دائرہٴ اثر کو محدود اور تنگ کررہے ہیں؛ جب کہ اس تحدید کا کوئی ثبوت نہ آیت کریمہ میں ہے اورنہ اس کاکوئی اشارہ ان روایتوں میں ہے جو اس آیت کے سبب نزول سے متعلق ہیں۔ علاوہ ازیں قانون بحیثیت قانون کے اس طرح کی حدبندیوں کو برداشت بھی نہیں کرتا وہ تو اپنے جملہ متعلقات کو حاوی ہوتا ہے نیز اس تفصیل سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ جو لوگ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک بتاتے ہوئے بہ طور استدلال کے اس آیت کو پیش کرتے ہیں ان کا یہ طرز عمل خالص مغالطہ پر مبنی ہے، علمی استدلال سے اس کاکوئی تعلق نہیں ہے۔
(۲) حضرت امام شافعی رحمة اللہ علیہ ایک مجلس میں تین طلاق کے وقوع پر آیت کریمہ ”فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی نکح زوجاً غیرہ“ سے استدلال کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔
فالقرآن واللّٰہ أعلم یدل علی ان من طلق زوجة لہ دخل بہا أو لم یدخل بہا ثلثة لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ (کتاب الام، ج۵، ص۱۶۵ و سنن الکبریٰ، ج۱، ص۳۳۳)
”اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کہ قرآن حکیم کا ظاہر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں خواہ اس نے اس سے ہم بستری کی ہو یا نہ کی ہو وہ عورت اس کے لیے حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرلے۔“
امام شافعی کا استدلال فان طلقہا کے عموم سے ہے؛ کیونکہ ”فان طلق“ فعل شرط ہے جو عموم کے صیغوں میں سے ہے، جیساکہ اصول کی کتابوں میں مصرح ہے، لہٰذا اس کے عموم میں ایک مجلس کی تین طلاقیں بھی داخل ہوں گی۔
یہی بات علامہ ابن حزم ظاہری بھی لکھتے ہیں، چنانچہ ”فان طلقہا فلا تحل لہ الآیة“ کے تحت لکھتے ہیں۔
فہذا یقع علی الثلاث مجموعة ومفرقة ولا یجوز أن یخص بہذہ الآیة بعض ذلک دون بعض بغیر نص (المحلی، ج۱۰، ص۲۰۷) یعنی فان طلقہا کالفظ ان تین طلاقوں پر بھی صادق آتا ہے جو اکٹھی دی گئی ہوں اور ان پر بھی جو الگ الگ دی گئی ہوں اور بغیرکسی نص کے اس آیت کو خاص کسی ایک قسم کی طلاق پر محمول کرنا درست نہیں ہے۔
ایک بے بنیاد مفروضہ
اس صحیح استدلال کی تردید میں جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ آیت کے عموم سے اکٹھی طلاقیں خارج ہیں؛ کیونکہ شریعت اسلامی میں اس طرح مجموعی طلاقیں دینی ممنوع ہیں، اب اگر ان ممنوع طلاقوں کو آیت کے عموم میں داخل مان کر ان کے نفاذ کو تسلیم کرلیا جائے تو شریعت کی ممانعت کا کوئی معنی ہی نہ ہوگا اور یہ رائیگاں ہوجائے گا۔
بظاہر ان لوگوں کی یہ بات بڑی وقیع اور چست نظر آتی ہے؛ لیکن اصول وضوابط اور شرعی نظائر میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی حیثیت ایک بے بنیاد مفروضہ سے زیادہ کی نہیں ہے؛ اس لیے کہ اس جواب میں سبب اوراس کے اثر وحکم کو گڈمڈ کرکے یہ غلط نتیجہ برآمد کرلیاگیا ہے؛ جب کہ اسباب اور ان پر مرتب ہونے والے احکام و آثار الگ الگ دو حقیقتیں ہیں۔ اسباب کے استعمال کا مکلف بندہ ہے اور ان سباب پر احکام کا مرتب کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے، لہٰذا جب شریعت کی جانب سے یہ معلوم ہوجائے کہ فلاں کام کا فلاں حکم ہے تو بندئہ مکلف سے جب بھی وہ فعل وجود میں آئے گا لامحالہ اس کا اثر اور حکم بھی ظہور پذیر ہوگا؛ البتہ اگر وہ فعل غیرمشروع طور پر اللہ تعالیٰ کی اذن واجازت کے خلاف صادر ہوگا تواس کا کرنے والا عند اللہ معصیت کار ہوگا اور اس عصیان پر اس سے مواخذہ ہوسکتا ہے۔ رہا معاملہ اس فعل پر اس کے حکم واثر کے مرتب ہونے کا تو فعل کے جائز وناجائز ہونے کا اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، اس بات کو ایک مثال سے سمجھیے، اللہ تعالیٰ عز شانہ نے فعل مباشرت یعنی عورت کے ساتھ ہم بستری کو وجوبِ غسل کے لیے سبب بنایا ہے اب اگر کوئی شخص جائز طور پر اپنی بیوی سے مباشرت کرے تواس پر شریعت کی رو سے غسل فرض ہوجائے گا۔ اسی طرحاگر کوئی بدکار کسی اجنبی عورت کے ساتھ یہی کام کرے تو اس فعل کے حرام وممنوع ہونے کے باوجود اس پر بھی شرعاً غسل فرض ہوجائے گا، افعال شرعی میں اس کے نظائر بہت ہیں اس موقع پر ان نظائر کاجمع کرنا مقصود نہیں ہے؛ بلکہ مسئلہ کی وضاحت پیش نظر ہے؛ اس لیے اسی ایک نظیر پر اکتفا کیا جارہا ہے۔
بعینہ یہی صورت طلاق کی بھی ہے۔ اللہ رب العزت نے فعل طلاق کو قید نکاح سے رہائی کا سبب اور ذریعہ قرار دیا ہے، لہٰذا جب شخص مکلف سے فعل طلاق کا صدور ہوگا تو لازمی طور پر اُس کے اثر وحکم کا بھی ثبوت ہوگا۔ چاہے طلاق کا یہ عمل شریعت کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق وقوع میںآ یا ہو یا غیرمشروع طور پر؛ البتہ غیرمشروع اور ممنوع طریقہ اختیار کرنے کی بنا پر وہ شریعت کی نگاہ میں قصور وار ہوگا اور اس کی بندگی واطاعت شعاری کا تقاضا ہوگا کہ ممکن حد تک اس غلطی کو درست کرنے کی کوشش کرے؛ چنانچہ حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنی زوجہ کو بحالت حیض ایک طلاق دے دی تھی، جس کا ناجائز وممنوع ہونا شرعاً مسلم ہے، اس کے باوجود اس طلاق کو نافذ مانا گیا۔ پھر چونکہ یہ ایک طلاق تھی جس کے بعد رجعت کا حق باقی رہتا ہے۔ لہٰذا رجعت کرکے اس غلطی کی تلافی کا موقع تھا؛ اسی لیے ہادی اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں رجعت کی ہدایت فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ رجعت کرلینے کے بعد اگر طلاق دینے ہی کی مرضی ہوتو طہر یعنی پاکی کے زمانہ میں جو مجامعت اور ہم بستری سے خالی ہو طلاق دینا، حضرت عبداللہ بن عمر کے اس طلاق کا واقعہ صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن نسائی، سنن کبریٰ، سنن دارقطنی وغیرہ کتب حدیث میں دیکھا جاسکتا ہے۔ حضرت ابن عمر کی یہ حدیث اس بات پر نص ہے کہ ممنوع اور ناجائزطور پر طلاق دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے، اس صریح وصحیح نص کے مقابلہ میں اس قیاسی مفروضہ کی کیا حیثیت ہے یہ ارباب علم ودانش پر مخفی نہیں، عیاں را چہ بیاں۔
عجیب انداز فکر
پھر یہ بات بھی کس قدر دلچسپ بلکہ مضحکہ خیز ہے کہ جو لوگ ایک مجلس کی تین طلاقوں کو اس کے ممنوع وغیر مشروع ہونے کی بناپر آیت کے عموم سے خارج اور غیر نافذ کہہ کر اسے ایک طلاق قرار دیتے ہیں، وہی لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ تین طلاقوں کی یہ ایک طلاق بھی ممنوع غیرمشروع اور طلاق بدعی ہے پھر بھی یہ ممنوع طلاق نافذ ہوجائے گی؛ جب کہ ان کے مفروضہ کے مطابق وہ نافذ نہیں ہونی چاہیے، ملاحظہ ہوگروہ اہل حدیث (غیرمقلدین) کے رئیس اعظم جناب نواب صدیق حسن خاں قنوجی مرحوم کے فرزند ارجمند جناب نواب میرنورالحسن خاں المتوفی ۱۳۳۶ھ کی حسب ذیل عبارت:
”اوازادلہ متقدمہ ظاہر است کہ سہ طلاق بیک لفظ یا دریک مجلس بدون تخلل رجعت یک طلاق باشد اگرچہ بدعی بود ایں صورت منجملہ صور طلاق بدعی واقع است با آنکہ فاعلش آثم باشد نہ سائر صور بدعی کہ در آنہا طلاق واقع نمی شود“ (عرف الجادی من جنان ہدی الہادی ص۱۲۱، م مطبع صدیقی بھوپال ۱۳۰۱ھ)
”اوپر بیان کردہ دلیلوں سے ظاہر ہے کہ ایک لفظ کی تین طلاقیں یا ایک مجلس کی تین طلاقیں جب کہ درمیان میں رجعت نہ ہو ایک طلاق ہوگی، اگرچہ یہ بھی بدعی ہوگی طلاق بدعی کی یہ قسم دیگر بدعی طلاقوں کے برخلاف نافذ ہوگی اور اس کا مرتکب گنہگار بھی ہوگا اور طلاق بدعی کی بقیہ ساری قسموں میں طلاق واقع نہیں ہوں گی۔“
سوال یہ ہے کہ ممنوع اور غیر مشروع ہونے میں ایک مجلس کی تین طلاقیں اور تین طلاقوں کی یہ ایک طلاق دونوں برابر اور یکساں ہیں یا دونوں کی ممنوعیت وغیرہ مشروعیت میں تفاوت ہے اگر دونوں میں تفاوت اور کمی بیشی ہے تو اس تفاوت پر شرعی نص درکار ہے۔ بالخصوص جو لوگ دوسروں سے ہر بات پر کتاب وسنت کی نص کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں، ان پریہ ذمہ داری زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اس دعویٰ پر قرآن وحدیث سے کوئی واضح دلیل پیش کریں اوراگر دونوں کی ممنوعیت یکساں ہے اوریہی بات جناب میرنورالحسن خاں مرحوم کی عبارت سے ظاہر ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ مفروضہ خود ان لوگوں کے نزدیک بھی مسلم اور قابل عمل نہیں ہے؛ بلکہ مغالطہ اندازی کے لیے ایک ایسی بات چلتا کردی گئی ہے جو واقعیت سے یکسر بے بہرہ اور محروم ہے۔
(۳) ”تلک حدود اللّٰہ ومن یتعد حدود اللّٰہ فقد ظلم نفسہ لا تدری لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امرا الآیة“
”یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں جو کوئی اللہ کی حدوں سے آگے بڑھا تو اس نے اپنے اوپر ظلم کیا اس کو کیا خبر کہ شایداللہ پیدا کردے اس طلاق کے بعد کوئی نئی صورت۔“
اس آیت پاک کا ظاہر یہی بتارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تین طلاقوں کاجو حق مرد کو دیا ہے اگر وہ اس کو بیک دفعہ استعمال کرلے تو تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی؛ البتہ ایسا کرنا خود اس کی اپنی مصلحت کے خلاف ہوگا؛ کیونکہ اگر تین طلاقوں کو ایک شمار کرکے حق رجعت دے دیاجائے تو پھر اس کہنے کا کیا معنی ہوگا کہ ”لا تدری لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امرا“ اسے کیا معلوم کہ شاید اللہ تعالیٰ اس کے بعدکوئی نئی صورت یعنی باہمی موافقت وغیرہ کی پیدا فرمادے؛ اس لیے کہ تین کوایک شمار کرنے کی صورت میں تو رجعت کا حق اور موافقت کی صورت باقی ہی ہے۔
چنانچہ شارح صحیح مسلم امام نووی لکھتے ہیں:
”احتج الجمہور بقولہ تعالیٰ ومن یتعد حدود اللّٰہ فقد ظلم نفسہ الآیة قالوا معناہ ان المطلق قد یحدث لہ ندم فلا یمکنہ تدارکہ لوقوع البینونة فلو کانت الثلاث لاتقع ولم یقع طلاقہ ہذا الا رجعیا فلا یندم“ (صحیح مسلم مع الشرح، ج۱، ص۴۷۸)
”جمہور نے تین طلاقوں کے تین واقع ہونے پر اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”ومن یتعد حدود اللّٰہ فقد ظلم نفسہ“ سے استدلال کیا ہے، یہ کہتے ہیں کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ طلاق دینے والے کو بسا اوقات اپنی حرکت پر ندامت ہوتی ہے تو بیک دفعہ تینوں طلاقیں دے دینے کی صورت میں زوجین کے درمیان جدائی واقع ہوجانے سے اس ندامت کا تدارک اور ازالہ نہ ہوسکے گا اگر بیک دفعہ کی تین طلاقیں ایک ہی شمار ہوتیں تو ندامت کس بات پر ہوتی؛ کیونکہ رجعت کے ذریعہ اس کے تدارک اور ازالہ کی گنجائش موجود ہی ہے۔“
اسی بات کو امام جصاص رازی اپنے انداز میں یوں بیان فرماتے ہیں:
ومن یتعد حدود اللّٰہ فقد ظلم نفسہ، یدل علی أنہ طلق لغیر السنة وقع طلاقہ وکان ظالما لنفسہ بتعدیة حدود اللّٰہ لأنہ ذکر عقیب العدة فابان أن من طلقہ لغیر العدة فطلاقہ واقع لأنہ لو لم یقع طلاقہ لم یکن ظالمًا لنفسہ ویدل علی أنہ أراد وقوع طلاقہ مع ظلم نفسہ قولہ تعالیٰ عقیبہ، لا تدری لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک أمرا، یعنی یحدث لہ ندم فلا ینفعہ لأنہ قد طلق ثلاثًا (احکام القرآن، ج۳، ص۴۵۴، مطبوعہ مصر)
”آیت پاک ”ومن یتعد حدود اللّٰہ“ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جب مرد طلاق بدعی دے گاتو وہ واقع ہوجائے گی اور وہ اللہ کی قائم کردہ حدود سے تجاوز کرنے کی بنا پر اپنی ذات پر ظلم کرنے والا ہوگا یہ دلالت اس طور پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ”فطلقوہن لعدتہن“(طلاق دو انھیں ان کی عدت کے موقع پر) کے بعد اس آیت کو ذکر فرمایا ہے تواس سے ظاہر ہوا کہ جو غیر عدت میں یعنی طلاق بدعی دے گا اس کی طلاق واقع ہوجائے گی ورنہ اپنی ذات پر ظلم کرنے والا کیوں ہوگا اور اس بات پر دلالت کہ ”من یتعد حدود اللّٰہ“ کی مراد اپنے نفس پر ظلم کرنے کے باوجود اس کی طلاق کا واقع ہوجانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا وہ ارشاد جو اس کے بعد آرہا ہے یعنی لا تدری لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امرا یعنی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے دل میں طلاق پر ندامت پیداکردے اوریہ ندامت اس کے واسطے مفید نہ ہوگی؛ کیونکہ وہ تین طلاقیں دے چکا ہے۔“
علامہ علاء الدین ماردینی نے اس آیت کی یہی تفسیر قاضی اسماعیل کی کتاب احکام القرآن کے حوالے سے امام شعبی، ضحاک، عطاء، قتادہ اور متعدد صحابہ سے نقل کی ہے (الجوہر النقی مع سنن الکبریٰ للبیہقی ج۷، ص۳۲۸) نیز امام قرطبی علامہ جار اللہ زمخشری اور امام فخرالدین رازی نے بھی اپنی اپنی تفسیروں میں یہی لکھا ہے کہ اس آیت سے ایک مجلس کی تین طلاقوں کے وقوع کا ثبوت فراہم ہوتا ہے (دیکھیے الجامع لاحکام القرآن، للقرطبی، ج۱۸، ص۱۵۶-۱۵۷ ، والکشاف للزمخشری ج۴، ص۱۰۹ اور مفاتیح الغیب المشتہر بالتفسیر الکبیر الامام الرازی ج۸، ص۱۵۹)
ان تینوں آیات قرآنیہ سے جن پر ائمہٴ تفسیر کی تشریحات کی روشنی میں گذشتہ صفحات میں بحث کی گئی ثابت ہوتا ہے کہ ایک مجلس میں یا ایک لفظ سے دی گئی تین طلاقیں تینوں واقع ہوجائیں گی اس کے برعکس کسی آیت سے اشارة بھی یہ بات نہیں نکلتی کہ بیک مجلس یا بیک کلمہ دی ہوئی تین طلاقیں ایک شمار ہوں گی۔
$ $ $

مکمل تحریر >>